Hadith 2510

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَغْنَمًا إِلَّا قَسَمَ لِي، إِلا يَوْمَ خَيْبَرَ، فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً، وَكَانَ أَبُو مُوسَى وَأَبُو هُرَيْرَةً جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَخَيْبَرَ".
Sayyiduna Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said: Whenever I was present with the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) at the distribution of war booty, he gave me a share, except on the day of Khaybar, which was reserved only for the people of Hudaybiyyah. And Sayyiduna Abu Musa and Sayyiduna Abu Hurairah (may Allah be pleased with them both) came between Hudaybiyyah and Khaybar.
Hadith Reference سنن دارمي / من كتاب السير / 2510
Hadith Grading تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد وهو: ابن جدعان، [مكتبه الشامله نمبر: 2517]
Hadith Takhrij یہ روایت علی بن زید بن جدعان کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [أحمد 535/2] و [المعرفة و التاريخ للفسوي 160/3] ۔ نیز یہ روایت خلافِ واقع ہے کیونکہ سیدنا ابوموسیٰ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما خیبر فتح ہونے کے بعد خیبر میں پہنچے تھے۔ اسی طرح سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی حبشہ سے آئے تھے اور ان سب کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ دیا تھا۔ بعض علماء نے کہا: ان سب کو حصہ اس لئے دیا تھا کیونکہ اس وقت تک مالِ غنیمت تقسیم نہیں ہوا تھا، اور بعض نے کہا کہ اس خمس میں سے دیا تھا جو اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے، اور بعض نے کہا: کیونکہ یہ حضرات بڑی مشقت و مصیبتیں برداشت کر کے خیبر آئے تھے اس لئے ان کو حصہ دیا گیا۔ (وحیدی - [شرح سنن أبى داؤد 2725])