Hadith 3527

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "قَدِمَ سَلَمَةُ الْبَيْذَقُ الْمَدِينَةَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِهِمْ، فَقِيلَ لِسَالِمٍ: لَوْ جِئْتَ فَسَمِعْتَ قِرَاءَتَهُ، فَلَمَّا كَانَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ، سَمِعَ قِرَاءَتَهُ، رَجَعَ فَقَالَ: غِنَاءٌ غِنَاءٌ".
Someone from the household of Salim bin Abdullah, may Allah have mercy on him, said: Salim al-Baydhaq came to Madinah Tayyibah and started leading the prayer. So Salim, may Allah have mercy on him, was asked: If only you would also go and listen to his recitation. Thus, when Salim bin Abdullah reached the door and heard his recitation, he turned back and said: It is singing, singing.
Hadith Reference سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / 3527
Hadith Grading تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف فيه جهالة وابن جريج قد عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 3538]
Hadith Takhrij اس روایت میں جہالت ہے، اور کسی نسخہ میں سلمہ البيذق ہے کسی میں سالم، نیز ابن جریح کا عنعنہ بھی ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ (”گانے والوں اور اہلِ کتاب کے لب و لہجہ سے قرآن کی تلاوت میں پرہیز کرو، میرے بعد ایک قوم ایسی پیدا ہوگی جو قرآن مجید کو گویوں کی طرح گا گا کر پڑھے گی، یہ تلاوت ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی، اور ان کے دل فتنوں میں مبتلا ہوں گے“ (او كما قال صلی اللہ علیہ وسلم) یعنی ایسی تلاوت قطعاً منع ہے، سالم جو کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے ہیں ان کے والد نہایت سختی سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے، اور سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے سرمو انحراف یا خلاف ورزی ان پر شاق گذرتی تھی، کوئی بعید نہیں کہ اس قاری کی قراءت سن کر مذکورہ حدیث کے مطابق گویے کی طرح قرآن پڑھنے کو انہوں نے ناپسند کیا اور گھر واپس لوٹ گئے۔