Hadith 383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ دَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ» قَالَ أَبُو عِيسَى: وَدَغْفَلُ لَا نَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا
Dughfal bin Hanzalah (may Allah have mercy on him) says that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) passed away at the age of sixty-five years. Imam Tirmidhi says: We do not know of Dughfal having heard (directly) from the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him), although he was present during the time of the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him).
Hadith Reference شمائل ترمذي / باب: ما جاء فى سن رسول الله صلى الله عليه وسلم / 383
Hadith Grading زبیر علی زئی: حسن
Hadith Takhrij { « حسن » } :
«(سنن ترمذي : 3652 ، وتكلم فيه) ، وصححه الذهبي فى السيرة النبوية (ص574)»
اس حدیث کی سند کئی وجہ سے ضعیف ہے، جن میں سے دو درج ذیل ہیں:
➊ قتادہ مدلس تھے اور یہ روایت عن سے ہے۔
➋ حسن بصری مدلس تھے اور یہ روایت معنعن (عن سے) ہے۔
مزید یہ کہ خود امام ترمذی نے اس روایت پر جرح کر رکھی ہے اور دغفل بن حنظلہ کے صحابی ہونے میں شک کا اظہار کیا ہے۔
سابق حدیث (382) اس کا حسن لذاتہ شاہد ہے، جس کے ساتھ یہ ضعیف روایت بھی حسن یعنی حسن لغیرہ ہے اور حسن لغیرہ کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں:
① بذات خود ضعیف سند ہے، لیکن اس کا حسن لذاتہ یا صحیح شاہد موجود ہے، لہٰذا اسے حسن قرار دینے اور اس سے استدلال میں کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جو حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہو، وہی حدیث دغفل رضی اللہ عنہ یا رحمہ اللہ نے بھی ضرور بیان کی ہو۔!
② سند بذاتِ خود ضعیف ہے اور اس کے تمام شواہد ومتابعات بھی ضعیف ہیں۔ ایسی روایت حسن نہیں، بلکہ ضعیف ہوتی ہے۔
امام ترمذی کی مذکورہ جرح سے ثابت ہوا کہ وہ حسن لغیرہ کی مذکورہ دونوں قسموں کے قائل نہیں تھے، لہٰذا یہ اظہر من الشّمس ہے کہ وہ ضعیف + ضعیف والی حسن لغیرہ روایت کو حجت نہیں سمجھتے تھے۔
فائدہ: جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نوجوان تھے اور اسلام قبول کرچکے تھے مگر ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے، انھیں مخضرم کہا جاتا ہے، لہٰذا امام ترمذی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق دغفل رحمہ اللہ مخضرم تھے اور کبار تابعین میں سے تھے۔ واللہ اعلم