Hadith 116
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَمَّ سَدَلَ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ» قَالَ نَافِعٌ: «وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَفْعَلُ ذَلِكَ» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: «وَرَأَيْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمًا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ»
It is narrated from Sayyiduna Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with them both), he says that when the Noble Prophet (peace and blessings be upon him) would tie the blessed turban, he would let its tail hang between his two shoulders. (The student of Ibn Umar, Imam) Nafi’ says that Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) would also do the same. And Ubaidullah says: I have seen Qasim bin Muhammad and Salim, both of them would also do the same.
Hadith Reference شمائل ترمذي / باب ما جاء فى عمامة رسول الله صلى الله عليه وسلم / 116
Hadith Grading زبیر علی زئی: حسن
Hadith Takhrij { «حسن» } :
«سنن ترمذي ، ح 1732، وقال: حسن غريب . . . . صحيح ابن حبان (الاحسان:6363، نسخه محققه:6397) . كتاب الضعفاء الكبير اللعقيلي (3/21)»
اس روایت کی سند بظاہر صحیح ہے، لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: دراوردی ( عبدالعزیز بن محمد ) کی عبید اللہ (بن عمر ) سے عام حدیثیں عبداللہ (بن عمر العمری) کی مقلوب شدہ حدیثیں ہیں . . . عبد العزیز الدراوردی کی عبید اللہ سے حدیثیں منکر ہیں۔ (سوالات ابی داود نسخہ محققہ ص 222 فقرہ: 198)
امام احمد نے مزید فرمایا: «ما حدث عن عبيد الله بن عمر فهو عن عبدالله بن عمر» انھوں (عبد العزیز الدراوردی) نے عبید اللہ بن عمر سے جو حدیثیں بیان کی ہیں، وہ عبداللہ بن عمر کی حدیثیں ہیں ۔ کتاب الجرح والتعدیل 395/5 وسندہ صحیح
عبد اللہ بن العمری کو اگرچہ امام احمد ایک روایت میں لین الحدیث ( ضعیف) کہتے تھے۔ (دیکھئے سوالات المروذی: 124)
لیکن قول راجح میں نافع سے ان کی روایت حسن ہوتی ہے، لہٰذا یہاں منکر کا اعتراض محل نظر ہے اور امام احمد کے مقابلے میں ترمذی کی تحسین یہاں راجح ہے ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس حدیث کے شواہد کے لیے دیکھئے صحیح مسلم (1359، ترقیم دارالسلام:3312) اور مجمع الزوائد (120/5)