Hadith 68
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْبَيَاضِ مِنَ الثِّيَابِ لِيَلْبِسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ»
It is narrated from Sayyiduna Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both), he says that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: "Adopt white clothes, those among you who are alive should also wear them, and those who pass away should also be shrouded in white clothes, for they are among your best clothes."
Hadith Reference شمائل ترمذي / باب ما جاء فى لباس رسول الله صلى الله عليه وسلم / 68
Hadith Grading زبیر علی زئی: سنده حسن
Hadith Takhrij { «سنده حسن» } :
« (سنن ترمذي : 994 وقال : حسن صحيح) ، (سنن ابي داؤد : 4061) ، (سنن ابن ماجه : 1472) ، صحيح ابن حبان (1439-1441) ، المستدرك للحاكم (354/1) وصححه ووافقه الذهبي»
Hadith 69
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَسُوا الْبَيَاضَ؛ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ»
It is narrated from Sayyiduna Samurah bin Jundub, may Allah be pleased with him, he says: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: "You should wear white clothes, for they are pure and clean, and shroud your deceased in them."
Hadith Reference شمائل ترمذي / باب ما جاء فى لباس رسول الله صلى الله عليه وسلم / 69
Hadith Grading زبیر علی زئی: سنده ضعيف
Hadith Takhrij { «سنده ضعيف» } :
« (سنن ترمذي : 2810 ، وقال : حسن صحيح ) ، (سنن ابن ماجه : 3567) ، المستدرك للحاكم (185/4) وصححه على شرط الشيخين ووافقه الذهبي . !»
◈ مستدرک میں سفیان ثوری کے سماع کی تصریح موجود ہے ، لیکن حبیب بن ابی ثابت ثقہ مدلس تھے اور ان کے سماع کی تصریح موجود نہیں ، حکم بن عتیبہ (ثقہ مدلس ) نے ان کی متابعت کر رکھی ہے ۔ [مسند احمد 17/5 ح 20185]
لیکن حکم کے سماع کی تصریح بھی موجود نہیں ، لہٰذا یہ سند ضیعف ہے ۔ دوسرے یہ کہ میمون بن ابی شبیب کے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع میں بھی نظر ہے ۔
SB فائدہ : EB مسند احمد میں «فانما اطهر و اطيب» کے بغیر اس حدیث کا ایک شاہد ہے ، جس کی سند صحیح ہے ۔ [21/5 ح20235]
سنن نسائی (5324) وغیرہ میں ایک شاہد «فانما اطهر و اطيب» کے الفاظ کے ساتھ ہے ، لیکن اس کی سند میں سعید بن ابی عروبہ ثقہ مدلس ہیں اور سند عن سے ہے ۔
خلاصہ یہ کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے اور یہ «اطهر و اطيب» کے الفاظ کے بغیر صحیح ہے ۔