Hadith 160

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ عِنْدَهُ دُبَّاءً يُقَطَّعُ فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: «نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَا» قَالَ أَبُو عِيسَى: " وَجَابِرٌ هُوَ جَابِرُ بْنُ طَارِقٍ وَيُقَالُ: ابْنُ أَبِي طَارِقٍ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْرِفُ لَهُ إِلَا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ، وَأَبُو خَالِدٍ اسْمُهُ: سَعْدٌ "
Hakeem bin Jabir narrates from his father that he said: I presented myself before the Prophet Muhammad (peace be upon him) and saw that there were gourds being cut in his presence. I asked: What is this? The Prophet (peace be upon him) replied: "With this, we will increase our food." Imam Abu Isa Tirmidhi (may Allah have mercy on him) says: In this hadith, Jabir refers to Jabir bin Tariq, who is also called Ibn Abi Tariq. He was a companion of the Messenger of Allah (peace be upon him), and to our knowledge, only this one hadith is narrated from him. And in the chain of narration, the one named Abu Khalid is Sa'd.
Hadith Reference شمائل ترمذي / باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم / 160
Hadith Grading زبیر علی زئی: سنده ضعيف
Hadith Takhrij { «سنده ضعيف» } :
«سنن ابن ماجه : 3304»
اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کے راوی اسماعیل بن ابی خالد مدلس تھے۔ دیکھئیے : [طبقات المدلسين 36/2، انوار الصحيفه ص 106 ]
اور یہ سند عن سے ہے ۔ یاد رہے کہ امام وکیع نے حفص بن غیاث کی متابعت کر رکھی ہے اور عنعنہ اسماعیل کے علاوہ باقی سند صحیح ہے۔ دیکھئیے : [مسند الحميدي: 862 بتحقيقي ]
شیخ البانی رحمہ اللہ کا تدلیس کے بارے میں موقف تھا ، لہٰذا وہ اسماعیل مذکور کی تصریح سماع کے بغیر ہی اس حدیث کو اپنے سلسلہ صیحہ میں لے آئے۔ 525/5 ح 2400)!!
ہم اصولِ حدیث کے پابند ہیں، لہٰذا بسا اوقات ایک مدلس راوی کی معنعن روایت میں سماع کی تصریح تلاش کرنے میں کئی کئی دن مشغول اور سرگرداں رہتے ہیں ، پھر اس جدوجہد میں مکمل ناکامی کے بعد مجبور ہو کر اس روایت پر ضعف کا حکم لگاتے ہیں اور بعد میں جب بھی صحیح یا حسن سند سے سماع کی تصریح مل جائے تو علانیہ رجوع کرتے ہوئے اس حدیث کو صحیح یا حسن قرار دیتے ہیں اور حق کی طرف رجوع کرنے میں ہمیں لوگوں کی ملامت، تضحیک اور طعن و تشنیع کی کوئی پروا نہیں ہے۔ «والحمدلله»