Hadith 135

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ الْحَلَبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَعَلَى رَأْسِهِ عِصَابَةٌ صَفْرَاءُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «يَا فَضْلُ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «اشْدُدْ بِهَذِهِ الْعِصَابَةِ رَأْسِي» قَالَ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَعَدَ فَوَضَعَ كَفَّهُ عَلَى مَنْكِبِي، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فِي الْمَسْجِدِ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ
Sayyiduna Fadl bin Abbas (may Allah be pleased with him) narrates: I went to the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) during his illness in which he passed away, and there was a yellow turban on his blessed head. I greeted him with salam, and he said: "O Fadl!" I replied: O Messenger of Allah (peace and blessings be upon him), I am present. He said: "Tie this turban properly on my head." I did so. Then he sat up, placed both his hands on my shoulders, stood up, and went to the mosque. And in the hadith, there is a detailed story.
Hadith Reference شمائل ترمذي / باب ما جاء فى اتكاء رسول الله صلى الله عليه وسلم / 135
Hadith Grading زبیر علی زئی: سنده ضعيف
Hadith Takhrij { «سندہ ضعیف» } :
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ عطاء بن مسلم کی چھ محدثین نے توثیق کی اور چھ نے جرح کی ، نیز حافظ ابن حجر نے فرمایا: «صدوق يخطئ كثيرا» وہ سچا (راوی) ہے اور بہت غلطیاں کرتا تھا۔ [ تقريب التهذيب :4599 ]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے دیوان الضعفاء میں ذکر کیا، لہٰذا جمہور کے نزدیک مجروح ہونے کی وجہ سے یہ راوی ضعیف ہے۔
➋ عطاء بن ابی رباح کی فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے ، بلکہ حافظ مزی نے فرمایا: ”کہا گیا ہے کہ انھوں ( عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ ) نے فضل ( بن عباس رضی اللہ عنہ ) سے ( کچھ ) نہیں سنا۔ “ [ تهذيب الكمال 167/5 ]
عطاء بن مسلم الخفاف سے ایک روایت میں عطاء اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا واسطہ ہے ۔ [ ديكهئيے المعجم الاوسط للطبراني 82/4 ح 311، المعجم الكبير281/18 ح719 ]
اور اس کی سند میں عطاء بن مسلم سے محمد بن متوکل بن عبدالرحمنٰ یعنی ابن ابی السری العسقلانی راوی ہیں جو عند الجمہور موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث ہیں اور ان تک سند حسن لذاتہ ہے۔ «والله اعلم»
مختصر یہ کہ شمائل ترمذی والی روایت عطاء بن مسلم ( ضعیف ) کی وجہ سے ضعیف ہے اور المعجم الکبیر (280/18 ح 718) میں اس روایت کا ایک شاہد بھی ہے، لیکن اس کی سند میں کئی راوی نامعلوم (مجہول ) ہیں ۔ دیکھئیے [مجمع الزوائد 26/9 ]