Mu'adh bin Jabal (may Allah be pleased with him) narrates that he set out with the Messenger of Allah (ﷺ) in the year of Tabuk (on a journey). And the Messenger of Allah (ﷺ) would combine the Zuhr and Asr, and Maghrib and Isha prayers. He said: "One day, he delayed the prayer, then went out and performed Zuhr and Asr together. Then he returned, and later set out again and performed Maghrib and Isha together." [فوائد: 1. دورانِ سفر دو نمازیں جمع کر کے پڑھنا جائز ہے۔ 2. دورانِ سفر نمازوں میں تقدیم و تاخیر یعنی ظہر کو عصر کے وقت میں اور مغرب کو عشاء کے وقت میں یا عصر کو ظہر کے وقت اور عشاء کو مغرب کے وقت میں پڑھنا جائز ہے۔ 3. غزوہ تبوک شام کے عیسائیوں کے خلاف تھا جو مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ غزوہ رجب 9 ہجری میں ہوا اس میں مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار تھی اس کو غزوۃ العسرۃ (تنگی کی جنگ) بھی کہا جاتا ہے۔ 4. معلوم ہوا خلیفہ بذات خود فوج کی کمانڈ کر سکتا ہے۔]
Hadith Referenceمسند الإمام الشافعي / كتاب الصلاة / 361
Hadith Takhrijأخرجه مسلم: صلاة المسافرين، باب الجمع بين الصلاتين في الحضر (706).