´It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:` “When the reciter says Amin, then say Amin, for the angels say Amin, and if a person’s Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven.”
Hadith Referenceسنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / 851
Hadith Gradingالألبانی:صحيح | زبیر علی زئی:صحيح بخاري
´It was narrated that Abu Hurairah said:` The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the reciter says Amin, then say Amin, for if a person’s Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven.”
Hadith Referenceسنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / 852
Hadith Gradingالألبانی:صحيح | زبیر علی زئی:بخاري ومسلم
Hadith Takhrij« سنن النسائی/الافتتاح 33 ( 929 ) ، ( تحفة الأشراف : 13287 ) ، وحدیث سلمة بن عبد الرحمن تفرد بہ ابن ماجہ 15302 ، ( تحفة الأشراف : 15302 ) ( صحیح ) »
´It was narrated that Abu Hurairah said:` “The people stopped saying Amin, but when the Messenger of Allah (ﷺ) said ‘Not (the way) of those who earned Your Anger, nor of those who went astray’[1:7] he would say Amin, until the people in the first row could hear it, and the mosque would shake with it.
Hadith Referenceسنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / 853
Hadith Gradingالألبانی:ضعيف | زبیر علی زئی:ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (934), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
Hadith Takhrij« تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15444 ، ومصباح الزجاجة : 311 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة 172 ( 934 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں ابو عبداللہ مجہول ہیں ، اور بشر بن رافع ضعیف ہیں ، اس لئے ابن ماجہ کی یہ روایت جس میں «فيرتج بها المسجد» ( جس سے مسجد گونج جائے ) کا لفظ ضعیف ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 465 )
´It was narrated that ‘Ali said:` “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying ‘Amin’ after he said, ‘nor of those who went astray.’[1:7]
Hadith Referenceسنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / 854
Hadith Gradingالألبانی:صحيح | زبیر علی زئی:صحيح
Hadith Takhrij«تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10065 ، ومصباح الزجاجة : 312 ) ( صحیح ) » ( اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں ، لیکن بعد میں آنے والی صحیح سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : المشکاة : 845 ، فواد عبد الباقی اور خلیل مامون شیحا کے نسخوں میں اور مصباح الزجاجہ کے دونوں نسخوں میں عثمان بن ابی شیبہ ہے ، مشہور حسن نے ابوبکر بن ابی شیبہ ثبت کیا ہے ، اور ایسے تحفة الأشراف میں ہے ، اس لئے ہم نے ابو بکر کو ثبت کیا ہے ، جو ابن ماجہ کے مشاہیر مشائخ میں ہیں ، اس لئے کہ امام مزی نے تحفہ میں یہی لکھا ہے ، اور تہذیب الکمال میں حمید بن عبدالرحمن کے ترجمہ میں تلامیذ میں ابوبکر بن ابی شیبہ کے نام کے آگے ( م د ق ) کا رمز ثبت فرمایا ہے ، جس کا مطلب یہ ہوا کہ صحیح مسلم ، ابوداود ، اور ابن ماجہ میں ابو بکر کے شیخ حمید بن عبد الرحمن ہی ہیں ، ملاحظہ ہو ، تہذیب الکمال : ( 7/ 377 ) ، اور عثمان بن ابی شیبہ کے سامنے ( خ م ) یعنی بخاری و مسلم کا رمز دیا ہے ، یعنی ان دونوں کتابوں میں حمید سے روایت کرنے والے عثمان ہیں ، ایسے ہی عثمان کے ترجمہ میں حمید بن عبد الرحمن کے آگے ( خ م ) کا رمز دیا ہے )
´It was narrated from ‘Abdul-Jabbar bin Wa’il that his father said:` “I performed prayer with the Prophet (ﷺ) and when he said: ‘Nor of those who went astray’,[1:7] he said Amin and we heard that from him.”
Hadith Referenceسنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / 855
Hadith Gradingالألبانی:صحيح | زبیر علی زئی:ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (933) وانظر الحديث الآتي طرفه (3802), و حديث أبي داود (932،933) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
´It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) said:` “The Jews do not envy you for anything more than they envy you for the Salam and (saying) ‘Amin’.”
Hadith Referenceسنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / 856
Hadith Gradingالألبانی:صحيح | زبیر علی زئی:إسناده صحيح
´It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:` “The Jews do not envy you for anything more than they envy you for the Salam and (saying) Amin, so say Amin a great deal.”
Hadith Referenceسنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / 857
Hadith Gradingالألبانی:ضعيف جدا | زبیر علی زئی:ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لإتفاقھم علي ضعف طلحة بن عمرو ‘‘ طلحة: متروك (تقريب: 3030), و الحديث السابق (الأصل: 856) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
Hadith Takhrij« تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5897 ، ومصباح الزجاجة : 314 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں طلحہ بن عمرو متروک ہے ، اس لئے یہ ضعیف ہے ، لیکن اصل حدیث بغیر آخری ٹکڑے «فأكثروا من قول آمين» کے ثابت ہے )