Hadith 302

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : ثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " .
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrates that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: "Today, two Eids (Eid and Jumu'ah) have come together. Whoever wishes, the Eid sermon will suffice for him (in place of the Jumu'ah sermon), but as for us, if Allah wills, we will perform both."
Hadith Reference المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / 302
Hadith Grading غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث حسن
Hadith Takhrij از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث حسن : سنن أبي داود : 1073، سنن ابن ماجه : 1311، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (1/288) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے غریب صحیح کہا ہے، سنن ابی داؤد (1070) سنن نسائی (1592) اور سنن ابن ماجہ (1310) میں اس کا حسن سند کے ساتھ شاہد موجود ہے، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1464) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/288) نے صحیح الاسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ نووی رحمہ اللہ (المجموع شرح المہذب : 4/320) نے اس کی سند کو جید قرار دیا ہے، مغیرہ بن مقسم الضبی مدلس ہیں، ان سے امام شعبہ رحمہ اللہ بیان کر رہے ہیں، لہذا سماع پر محمول ہے، شعبہ کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: بِأَنَّ شُعْبَةَ لَا يَرْوِي عَنْ شُيُوخِهِ الْمُدَلِّسِينَ إِلَّا مَا هُوَ مَسْمُوعٌ (فتح الباري : 4/381)، بقیہ بن ولید جمہور محدثین کے نزدیک حسن الحدیث ہیں۔»