Hadith 457

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ /a>، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : " ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ ، وَكَانَتِ الْبِلَادُ إِذْ ذَاكَ حَرْبًا ، فَإِنْ لَمْ تَأْتُوهُ وَتُصَلُّوا فِيهِ ، فَابْعَثُوا بِزَيْتٍ يُسْرَجُ فِي قَنَادِيلِهِ " .
Narrated Maymunah ibn Saad: I said: Messenger of Allah, tell us the legal injunction about (visiting) Bayt al-Muqaddas (the dome of the Rock at Jerusalem). The Messenger of Allah ﷺ said: go and pray there. All the cities at that time were effected by war. If you cannot visit it and pray there, then send some oil to be used in the lamps.
Hadith Reference Sunan Abi Dawud / Prayer (Kitab Al-Salat) / Hadith: 457
Hadith Grading الألبانی: ضعيف  |  زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (1407), زياد بن أبي سودة: رواه عن عثمان بن أبي سودة ولا يعرف لعثمان سماع من ميمونة رضي اللّٰه عنها،انظر المھذب في اختصار السنن الكبير للذھبي (2/ 402 ح 3133) فالسند معلل بالإنقطاع والحديث ضعفه الجمهور وقال الذھبي: ’’وھذا خبر منكر‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30
Hadith Takhrij « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 196 (1407)، (تحفة الأشراف: 18087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/463) (ضعیف) » (زیاد اور میمونہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن ابن ماجہ کی سند میں یہ واسطہ عثمان بن أبی سودة ہے، اس حدیث کی تصحیح بوصیری نے کی ہے، اور نووی نے تحسین کی ہے، البانی نے صحیح أبی داود (68) میں اس کی تصحیح کی ہے، اور اخیر خبر میں نکارت کا ذکر کیا ہے، ناشر نے یہ نوٹ لگایا ہے کہ البانی صاحب نے بعد میں صحیح أبی داود سے ضعیف أبی داود میں منتقل کر دیا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اس پر اپنے فیصلے کو تبدیل کریں، جبکہ آخری حدیث میں ذہبی سے نکارت کی وجہ بیان کر دی ہے، کہ زیتون کا تیل فلسطین میں ہوتا ہے، تو حجاز سے اس کو وہاں بھیجنے کا کیا مطلب، اور یہ کہ یہ تیل نصارے کے لئے وہ بھیجیں کہ وہ صلیب و تمثال پر اس کو جلائیں، یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے )